جمعرات، 16 فروری، 2017
جرمنی میں جاسوسی کے شبہ میں چار مساجد کے اماموں کے اپارٹمنٹس پر پولیس کے چھاپے
(پیغام میڈیا/نیوز18) برلن : جرمن پولیس نے چار مختلف مقامات پر واقع مساجد کے ائمہ کے گھروں پر چھایے مارے ہیں۔ ان پر جاسوسی کا شبہ ہے۔ الزام ہے کہ یہ ائمہ ترک مہاجرین اور تارکین وطن کی جاسوسی انقرہ حکومت کے لیے کرتے رہے ہیں۔ جرمنی کے وفاقی دفتر استغاثہ اور وزیر انصاف نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے چار مختلف مساجد کے اماموں کے اپارٹمنٹس پر چھاپے مار کر تلاشی لی ہے۔ ان ائمہ پر الزام ہے کہ وہ انقرہ حکومت کے لیے جاسوس کرتے تھے کہ ترک تارکین وطن میں کون کون امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کا حامی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی مدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔
جرمن پولیس کے یہ چھاپے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے وفاقی صوبوں میں مارے گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ حکومت کے حامی آئمہ پر چھاپوں سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک جرمنی اور ترکی کے درمیان انتہا پسندوں کے علاوہ مہاجرین کے معاملے پرمزید تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔
جرمنی کے دفتر استغاثہ کے مطابق جن ائمہ کے اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی ہے، اُن کو انقرہ حکومت کے مذہبی ادارے دیانت نے گزشتہ برس بیس ستمبر کو ایک خط کے ذریعے ہدایت کی تھی کہ وہ اُن افراد پر نظر رکھیں جو گولن کی مذہبی و سماجی تحریک خمت کے حامی ہیں یا ہمدردی رکھتے ہیں۔ جرمنی میں ترک تارکین وطن کی مساجد کے لیے اماموں کی تنظیم دیتب کہلاتی ہے۔
جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس کے مطابق مشتبہ چاروں امام دیتیب کے رکن ہیں۔ جرمنی کی ترک مساجد کے لیے دیتیب ہی کسی امام کا انتخاب کر کے اُسے ترکی میں تعینات کرتی ہے۔ جرمنی میں ترکی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تعداد تیس لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ماس نے اس کا اعتراف کیا کہ جرمنی میں فعال آئمہ کی تنظیم دیتیب پر ترک حکومت کا اثر بہت زیادہ ہے۔
جرمن دفتر استغاثہ نے گزشتہ ماہ اس معاملے کی چھان بین شروع کی تھی کہ ترک تارکین وطن میں انقرہ حکومت کے خفیہ ادارے کس حد تک فعال ہیں۔ یہ چھان بین ایک رکنِ پارلیمنٹ کی شکایت پر شروع کی گئی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی یورپ میں مخبروں کا ایک نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ برس کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہزاروں ترک باشندوں نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائی تھیں۔
شادی میں 5 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کرنے پر لگے گا جرمانہ
نئی دہلی،16فروری(ایجنسی) شادی بیاہ میں ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کے لئے نیا قانون بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے. اب شادیوں میں خرچ پر لگام لگ سکتا ہے. اگر شادی میں پانچ لاکھ سے زیادہ خرچ ہوئے تو جرمانہ بھی بھرنا پڑ سکتا ہے. یہی نہیں، آنے والے مہمانوں کی تعداد پر لمٹ لگائی جا سکتی ہے.
دراصل شادی میں فضول خرچی روک تھام، کو محدود کرنے کے مقصد والا ایک نجی بل لوک سبھا میں پیش جائے گا. اس میں یہ انتظام کیا گیا ہے کہ جو لوگ شادی بیاہ میں 5 لاکھ روپے سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں، وہ غریب خاندان کی لڑکیوں کی شادی میں چندہ کریں.
لوک سبھا میں کانگریس ممبر پارلیمنٹ رنجیت رنجن یہ نجی بل پیش کریں گی. بتا دیں رنجیت رنجن بہار کے دبنگ لیڈر پپو یادو کی بیوی ہیں. اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاندان شادی کے دوران 5 لاکھ روپے سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے، پھر اس غریب خاندان کی لڑکیوں کی شادی میں اس کی 10 فیصد رقم دینا چاہئے.
نئی دہلی،16فروری(ایجنسی) شادی بیاہ میں ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کے لئے نیا قانون بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے. اب شادیوں میں خرچ پر لگام لگ سکتا ہے. اگر شادی میں پانچ لاکھ سے زیادہ خرچ ہوئے تو جرمانہ بھی بھرنا پڑ سکتا ہے. یہی نہیں، آنے والے مہمانوں کی تعداد پر لمٹ لگائی جا سکتی ہے.
دراصل شادی میں فضول خرچی روک تھام، کو محدود کرنے کے مقصد والا ایک نجی بل لوک سبھا میں پیش جائے گا. اس میں یہ انتظام کیا گیا ہے کہ جو لوگ شادی بیاہ میں 5 لاکھ روپے سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں، وہ غریب خاندان کی لڑکیوں کی شادی میں چندہ کریں.
لوک سبھا میں کانگریس ممبر پارلیمنٹ رنجیت رنجن یہ نجی بل پیش کریں گی. بتا دیں رنجیت رنجن بہار کے دبنگ لیڈر پپو یادو کی بیوی ہیں. اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاندان شادی کے دوران 5 لاکھ روپے سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے، پھر اس غریب خاندان کی لڑکیوں کی شادی میں اس کی 10 فیصد رقم دینا چاہئے.
سعودی عرب: طوفان کے دوران گیس اسٹیشن پر بجلی گر گئی
سعودی عرب،16فروری(ایجنسی) سعودی عرب کے علاقے ابھا میں طوفان بادو باراں کے دوران میں ایک گیس اسٹیشن پر بجلی گری ہے جس سے اس کو آگ لگ گئی اور محکمہ شہری دفاع کو اس آگ پر قابو پانے کے لیے بلانا پڑا ہے۔
محکمہ شہری دفاع کے ترجمان کرنل عبدالرحیم نے بتایا ہے کہ فورسز نے گیس اسٹیشن کو لگی آگ پر قابو پا لیا ہے اور یہ آگ ممکنہ طور پر طوفان کے دوران بجلی گرنے سے ہی لگی تھی۔طوفان اور برق گرنے سے علاقے میں کافی نقصان ہوا ہے۔
شہری دفاع کے رضاکاروں نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال میں منتقل کردیا ہے اور وہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے جبکہ آتش زدگی کے براہ راست سبب کے تعیّن کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔
سعودی عرب،16فروری(ایجنسی) سعودی عرب کے علاقے ابھا میں طوفان بادو باراں کے دوران میں ایک گیس اسٹیشن پر بجلی گری ہے جس سے اس کو آگ لگ گئی اور محکمہ شہری دفاع کو اس آگ پر قابو پانے کے لیے بلانا پڑا ہے۔
محکمہ شہری دفاع کے ترجمان کرنل عبدالرحیم نے بتایا ہے کہ فورسز نے گیس اسٹیشن کو لگی آگ پر قابو پا لیا ہے اور یہ آگ ممکنہ طور پر طوفان کے دوران بجلی گرنے سے ہی لگی تھی۔طوفان اور برق گرنے سے علاقے میں کافی نقصان ہوا ہے۔
شہری دفاع کے رضاکاروں نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال میں منتقل کردیا ہے اور وہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے جبکہ آتش زدگی کے براہ راست سبب کے تعیّن کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔
پاکستان. درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش حملہ، 20 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی
دھماکا مزار کے احاطے میں ہوا جس میں متعدد خواتین اور بچے بھی زخمی ہوئے ہیں،
سیہون شریف: درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش حملے کے نتیجے میں اب تک 20 افراد شہید ہوگئے جب کہ 100 سے زائد زخمی ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے احاطے میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد کے زخمی ہوگئے ہیں۔ نمائندہ ایکسپریس نیوز کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا اور اس کے احاطے میں سیکڑوں لوگ موجود تھے، دھماکا انتہائی زور دار تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور دھماکے کے فوری بعد درگاہ میں مکمل طور پر دھواں پھیل گیا، دھماکے کے بعد مزار میں افراتفری مچ گئی جس سے متعدد افراد پیروں تلے بھی دب گئے۔
دھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا گیا ہے۔ ایدھی ذرائع کے مطابق دھماکے کے زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جب کہ دھماکے میں اب تک 20 افراد شہید ہوچکے ہیں اور 100 سے زائد زخمی ہیں جس میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
درگاہ لعل شہباز میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سول اسپتال سیہون، جامشورو اور حیدرآباد سمیت دیگر قریبی شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ہے۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے ترجمان نے دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور گولڈن گیٹ سے درگاہ میں داخل ہوا اور مزار میں دھمال کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس کا کہنا ہےکہ جمعرات کا روز ہونے کی وجہ سے مزار میں زائرین کا رش تھا جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو ٹیموں کو فوری جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے جب کہ وزیراعلیٰ نے کمشنر حیدرآباد اور آئی جی سندھ کو بھی ٹیلی فون کرکے دھماکے کی تفصیلات معلوم کیں، وزیراعلیٰ نے آئی جی سندھ سے دھماکے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
بدھ، 15 فروری، 2017
بغداد میں خودکش حملہ. 18 افراد جاں بحق
عراق :اس حملہ کی اب تک کسی گروہ یا تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس سے ملتی جلتے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
عراقی دارالحکومت بغداد کے ایک شیعہ اکثریتی مضافاتی علاقے میں بدھ کی شام ایک بم دھماکے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
صدر سٹی نامی علاقے کی مصروف مرکزی شاہراہ میں ایک پک اپ ٹرک کے ذریعے خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا جس میں 42 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
2017 کے ابتدائی چند روز میں بغداد میں خودکش حملوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا تاہم حالیہ چند دنوں میں ان واقعات میں کمی ہوئی ہے۔
اشتہار
اس حملہ کی اب تک کسی گروہ یا تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس سے ملتی جلتے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں اس وقت سے تیزی دیکھی گئی ہے جب چار ماہ قبل امریکی فوج کی مدد کے ساتھ عراقی فوج نے تنظیم کے اہم گڑھ موصل سے اسے نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔
عراقی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ صدر سٹی کے علاقے حبیبیہ کے علاقے میں ہوا۔
اس سے قبل منگل کے روز جنوبی بغداد میں ایک اور حملے میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ صدر سٹی کے علاقے میں ہی دو جنوری کو ہونے والے حملے میں 35 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
گذشتہ چند روز میں بغداد میں شیعہ عالم مقتدہ الصدر کے حامیوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انتخابات کے نگران الیکشن کمیشن میں تبدیلیاں کی جائیں۔ اتوار کو مظاہروں میں پرتشدد واقعات میں 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
منگل، 14 فروری، 2017
امریکی حکومت کی ٹیکس چوروں کے خلاف سخت ترین پالیسی پاسپورٹ منسوخ کرنے کی دھمکی
لندن ۔۔۔ مصطفیٰ زارو
امریکا کی نئی حکومت نے ٹیکس نا دھندگان کے خلاف بھی سخت ترین پالیسی اپناتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ٹیکس چوروں کے پاسپورٹس منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکومت نے جہاں ایک طرف سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی ہے وہیں امریکی شہریوں کےبیرون ملک سفر پربھی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ بین الاقوامی اکنامک مشاورتی فرم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ٹیکس نادہندگان کے خلاف بھی شکنجہ تیار کیا جاسکتا ہے۔
لندن میں قائم ڈویرا گرپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نائگل گرین نے امریکی ٹیکس اتھارٹی کو ملنے والے اضافی اختیارات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان اضافی اختیارات کے بعد امریکی حکام نے ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کیا ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے امریکی شہری کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی شہری ٹیکس ادا نہیں کرتا تو اس کا پاسپورٹ منسوخ کیا جاسکتاہے۔
مسٹر گرین کا کہنا ہےکہ امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جہاں بیرون ملک سے امریکا کے لیے سفری پابندیوں پر تنقید کا سامنا ہے وہیں اب امریکی شہریوں کو بھی ٹیکسوں کی عدم ادائی پربیرون ملک سفر سے روکا جاسکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے پاس ٹیکس جمع کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ نئی ٹیکس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہے۔ ٹیکس حکام کو یہ اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ ٹیکس چوروں کے پاسپورٹ منسوخ کریں۔ پاسپورٹس کی منسوخ کا قانون ’FATCA‘ کانگریس نے سنہ 2015ء میں منظور کیا تھا مگراس قانون پراس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ نئی امریکی انتظامیہ ٹیکسوں کےحوالے سے اس قانون پر سختی سےعمل درآمد کرانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔
اس قانون کے تحت بیرون ملک مقیم ٹیکس نہ ادا کرنے والے امریکیوں اور گرین کارڈ کے حامل افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکی گے۔ اس کے علاوہ امریکا کے اندر رہنےوالے گریڈ کارڈ ہولڈر جو ٹیکس ادا نہیں کرتے کے خلاف بھی ’فاٹکا‘ حرکت میں آئے گا۔
جب سے یہ قانون منظور ہوا ہے تب سے دنیا بھر میں موجود امریکیوں کے ٹیکسوں کی ادائی کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بیرون ملک شہریوں کوبار بار ٹیکسوں کی ادائی کے حوالے سے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور ان پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
نائگل گرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک امریکی شہریوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں یہ تجربہ ہوا ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کے نتیجے میں ٹیکسوں کی تفصیلات جاری کرنے اور انہیں امریکا ارسال کرنے میں 35 فی صد غلطیاں سامنے آئی ہیں۔ یہ تمام غلطیاں اس قانون کی پیچیدگی کا نتیجہ ہیں۔