اچھے دن کے دیکھو حال
ایک سو چالیس میں ہے دال
چھوٹے تو تھے ہی کنگال
بڑے بڑے ہوئے بد حال
پیاز کی مت پوچھو چال
ستّر تک پہونچی فی الحال
دھنیا مرچے کی یہ اچھال
اب تو چٹنی بھی جنجال
قرض سے ادھڑی چمڑی کھال
کسان لگائے پھندا، جال
بجلی پانی ہر سو کال
اڈانی ، امبانی مالا مال
امریکہ، چین ، دبئی ، نیپال
ملکوں ملکوں گھومو لال
کالے دھن کی باتیں ٹال
سب پر چپ کا پردہ ڈال
ویا پم، راجے ، للت گھوٹال
کھائے کمائے چوکڑی چنڈال
کون سنے گا یہ سب حال
لیڈر ہوئے گینڈے کی کھال
جنتا کا اب کسے خیال
جیو بہادر نٹور لال
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں