مجلس آپ کے درمیان رہ کر آپ کو سمجھنے اور آپ کے دلوں کو جیتنے آئی ہے: اکبرالدین اویسی
ممبئی۔۱۲؍فروری:(ممبئی اردو نیوز)این ٹی انصاری مارگ عرب گلی گرانٹ روڈ پر عوامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے قائد مجلس اتحاد المسلمین اکبرالدین اویسی نے کہا کہ آج انتخابات کا وقت ہے او رانتخابات میں امیدوار اپنی قسمت کو آزماتے ہیں او رمجلس اتحاد المسلمین بلدیہ انتخابات میں اپنی بھی قسمت کو آزمانے آئی ہے۔ انتخابات تو ایک بہانہ مجلس آپ کے درمیان رہ کر آپ کو سمجھنے اور آپ کے دلوں کو جیتنے آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات تو آتے رہیں گے جاتے رہیں گے مگر آج مجلس اتحاد المسلمین اس انتخاب کے ذریعے آپ کے درمیان آکر چند باتوں کو رکھ کر آپ کو ایک فکر دیتی ہے کہ وقت اور حالات کا تقاضہ کیا ہے اور حالات کا کس طرح ہم مقابلہ کریں گے۔ حالات کا مقابلہ ایک مکمل منصوبہ بندی سے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ہندوستان کے ۷۰ برس کے سفر پر نظر ڈالیں تو بہت سے واقعات اور بہت سی سیاسی جماعت اور سیاسی جماعتوں کا ختم ہونے کا پتہ ملے گا، ۷۰ برس کے آزادی کے اس سفر میں آپ کو اور ہم کو کیا ملا او رہم نے کیا کھویا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فسادات ہوئے کمیٹیاں بنیں لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کیا ان کمیٹیوں پر عملدرآمد کیاگیا ۔ انہوں نے کہاکہ زندگی کے ہر شعبوں میں سب سے پیچھے اور سب سے پچھڑا ہوا اگر کوئی ہے تو وہ مسلمان ہے۔ ہم کو ہمارا حق کیوں نہیں دیا گیا، ہمیں تعلیم سے کیوں محروم رکھا گیا، ہمیں روزگار سے محروم کیوں رکھا گیا، ہمیں بنیادی سہولتو ں سے محروم کیوں رکھا، ہمارے بچوں کو علم کے زیور سے محروم کیوں رکھاگیا۔ انہوں نے فسادات کے تعلق سے کہا کہ ملک میں جب بھی فساد ہوا ہمیں برباد کیاگیا، بھیونڈی فساد میں ہمارا مال بھی گیا، جان بھی گئی، اور سب سے بڑی بات ہماری صنعتیں تباہ کردی گئیں۔ ہر فسادات میں ہمارے ساتھ یہی ظلم رواں رکھا گیا،ہر جگہ ہماری صنعتیں تباہ وبرباد کردی گئیں تاکہ مسلمان صنعتی اعتبار سے کمزور ہوجائے۔ جہاں جہاں ہم معاشی اعتبار سے مضبوط تھے فسادات کے ذریعہ ہماری معیشتوں کو اجاڑ دیاگیا۔ یہی شکوہ ہے یہی شکایت ہے یہی غصہ ہے جو ہم لے کر آپ کے درمیان آئے ہیں۔ ہم انصاف مانگتے ہیں تو انہیں برا لگتا ہے۔ کیا آج اس بات سے کوئی انکار کرے گا ، چھ دسمبر اس ملک کا سیاہ دن تھا جس دن بی جے پی بجرنگ دل، تمام فرقہ پرست تنظیموں نے بابری مسجد کو شہید کیا ، میں کہوں گا شہادت بابری مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کی شہادت نہیں تھی بلکہ بابری مسجد کے ساتھ ساتھ فرقہ پرست طاقتوں نے ہندوستان کے دستور پر حملہ کیا، سیکولر ازم پر حملہ کیا، عدلیہ پر حملہ کیا، پارلیمنٹ پر حملہ کیا، لوگوں کے ذہنوں میں سوال پیدا ہوگا کیسے ؟ بابری مسجد ایک سیکولرازم کی نشانی تھی کلیان سنگھ نے عدالت کو کہا کہ ہم بابری مسجد کی حفاظت کریں گے، پارلیمنٹ نے یقین دلایا کہ ہم بابری مسجد کی حفاظت کریں گے لیکن کیا ہوا حفاظت ہوئی بابری مسجد شہید کردی گئی، اس کے بعد احتجاج ہوا، سر اور سینوں پر گولیاں چلائی گئی، بچوں کو ٹاڈا کے تحت قید کیاگیا،ممبئی میں خونریز فسادات ہوئے، تباہی وبربادی ہوئی اورممبئی میں بہت بڑا واقعہ ہوا، فسادات میں معصوموں کی جان گئی، عزتیں لوٹیں گئیں، اور بم دھماکے ہوئے،ہم مذمت کرتے ہیں ، اظہار ہمدردی کرتے ہیں لیکن میرا سوال ہے؟ بابری مسجد پہلے شہید ہوئی ان کی شہادت میں شامل ظالموں کو آج تک پھانسی نہیں ہوئی لیکن اس کے بعد ممبئی میں ہوئے بم دھماکوں کے مجرمین کو تختہ دار پر لٹکا دیاگیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندوستان میں قانون کو توڑنے والے ہرمجرم کو سزا ہوچاہے چھوٹا ہو یا بڑا ہو، ہندو یا مسلم ہو۔ آج بابری مسجد کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں کیا یہ انصاف ہے؟ انہوں نے اپنی تقریر میں تعلیمی پسماندگی، مسلم بچوں کو جیل اور مسلم محلوں میں بنیادی سہولتوں کے فقدان پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور عوام الناس سے اپیل کی اپنے حق کے لئے وہ حق کا ساتھ دیں اور حق کو کامیاب کریں ۔ قبل ازیں پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس سے ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کرنے والے نظام الدین راعین نے اپنی جوشیلی تقریر میں کہاکہ ۲۱؍فروری آپ کے جنون کے دن ہے ۲۱؍فروری کو ایک ایک ووٹ مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار کو دیں اور کثیر تعداد میں قوم سے محبت رکھنے والے امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ ایم آئی ایم کے تلنگانہ رکن اسمبلی احمد بلعلہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ کانگریس کی نااہلی کی وجہ سے آج نریند مودی اس ملک کا وزیراعظم بن کر بیٹھا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین نے بغیر کسی مدد کے مہاراشٹر اسمبلی کے چنائو میں حصہ لیا اور دو سیٹوں پر مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں کو کامیابی ملی۔ انہوں نے کہاکہ آج مسلمانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ووٹ سے سنجے نروپم کا ہاتھ مضبوط کریں گے یا اکبرالدین اویسی کا۔ مہاراشٹر ایم آئی ایم کے صدر عبدالرحمن شاکر پٹنی نے اپنی تقریر میں کہا کہ انشاء اللہ مجلس آئے گی ، مجلس چھائے گی اور مجلس انشاء اللہ ۲۱ فروری کو بازی لے جائے گی۔ دوستو! مجلس کی پتنگ ہوا میں ایسی پروان چڑھے گی کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جائیں گے۔ آج مجلس آپ کے درمیان قوم کا درد لے کر آئی ہے لہذا آپ مجلس کے امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگوں پر الزام عائد کیاجاتا ہے کہ ہم کسی کے ایجنٹ ہیں میں آپ کوبتانا چا ہتاہوں کہ ہم کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں بلکہ ہم محمد الرسول اللہ ﷺ کے ماننے والے ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ اسدالدین اویسی او راکبرالدین اویسی کو ایک ہی درد ہے کہ قوم کی ترقی ہو اور قوم کو اس کا حق ملے۔ آج ممبئی میں قائد مجلس اکبرالدین اویسی نے ماہم، بھرنی ناکہ، انٹاپ ہل وڈالا، عرب گلی اور گھڑپ دیو میں خطاب کیا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں