نئی دہلی،12؍فروری
دہلی میں میونسپل کارپوریشن انتخابات لڑنے کا اعلان کر چکی پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کی پارٹی نے دہلی کے رام لیلا میدان میں دہلی سے وابستہ مسائل پر مرکز، ریاست، کارپوریشن حکومتوں سے سوال کئے۔ریلی میں حقیقی نشانہ دہلی کے وزیر اعلی اور پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے پرانے ساتھی اروند کیجریوال رہے۔سوراج ابھیان کی اس ریلی میں سینئر وکیل شانتی بھوشن نے ایک بڑا دعوی کیاہے ۔شانتی بھوشن نے آئین کے خلاف کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ مرکزی حکومت اس سال دہلی حکومت کو ہٹا کر صدر راج نافذ کر سکتی ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے شانتی بھوشن نے کہاکہ انہوں نے دہلی کے آئین کو سمجھا ہی نہیں، آئین کے خلاف ہی کام کیا، مرکز نے ایک جانچ کمیٹی بنائی تھی ،اس نے اپنی رپورٹ میں مرکز کو بتایا ہے۔دہلی کی حکومت کہتی ہے کہ ہمیں پورا حق ہے جبکہ آئین انہیں حق نہیں دیتا،آئین میں لکھا ہے کہ اگر کوئی حکومت آئین کے خلاف کام کرتی ہے تو اسے ہٹا کر صدر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔معاملہ کے سپریم کورٹ میں زیر التواء ہونے کے سوال پر شانتی بھوشن نے کہاکہ آئین میں دفعہ اتنی واضح ہے کہ سپریم کورٹ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹ ہی نہیں سکتا۔کوئی منتخب حکومت جسے 90فیصد سیٹ بھی آئیں ہوں ،وہ بھی اگر آئین کے خلاف کام کرے گی تو اسے ہٹایا جا سکتا ہے۔ریلی کے دوران یوگیندر یادو نے بھی کیجریوال حکومت پر جم کر حملہ بولا۔یوگیندر یادو نے رائٹ ٹو ری کال کی بات کرتے ہوئے کہاکہ کیجریوال دوبارہ اعتماد کا ووٹ جیتیں۔اس کے ساتھ ہی ایم سی ڈی انتخابات میں 272وارڈ وں میں سے 136سے کم سیٹیں ملی، تو کیجریوال استعفی دیں۔سوراج انڈیا کی ریلی کے دوران ’جواب دو حساب دو‘اور ’صاف دل صاف دہلی‘جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔
اتوار، 12 فروری، 2017
شانتی بھوشن کا دعویٰ ، کجریوال حکومت کو ہٹا کر صدر راج لگا سکتا ہے مرکز
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں